غزل الغزلات
سوال: غزل الغزلات میں ، نغمات سلیمانی کی کتاب کیا ہے ؟
جواب: یہ سلیمان کے نغموں کا متبادل نام ہے ، اس کا ایک مشہور نام سلیمان کی غزلات بھی ہے ، اس میں کوئی بھی فرق نہیں ہے اس کے غبرانی نام کا حقیقی طور پر ترجمہ " غزلالغزلات " ہے جس کا مطلب ہے کہ تمام غزلات میں بہترین سلیمان نے 1005 غزلیں لکھی ( 1 سلاطین 4 باب کی 32 آیت ) اور اس کا عنوان زور دیکر کہتا ہے کہ یہ سب سے بہترین تھیں ، بائبل کا لاطینی روپ جسے خاص طور سینٹ جیروم نے چوتھی صدی میں تیار کیا تھا لاطینی زبان اس کو کینٹی کم کینٹیکورم کہا جاتا ہے جس کا مطلب غزل الغزلات ہے
سوال: غزلا الغزلات میں ، بائبل میں غزل الزلات جیسی کتاب میں جنسیت پر مبنی باتیں کیوں ہیں؟
جواب: شادی میں اور مباشرت میں رومانوی ہونے جذباتی ہونے اور جنونی ہونے میں کیا خرابی ہے ؟ جبکہ کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ خدا ہر طرح کی جنسی لطف اندوزی کے خلاف ہے ، اور خداۓ واحد ہی نے جنسیات ( مباشرت کے عمل کو ) پیدا کیا تھا ، جبکہ ازدواجی زندگی سے باہر مباشرت کے خلاف خدا نے واضح طور پر اور سختی سے بات کی ہے ، کوئی جھوٹا شخص اس بات کو عام سوچ سکتا ہے کہ خدا ہر طرح کی جنسی خوشی کے خلاف ہے ، کیا یہ سلیمان کی غزلات میں نہیں تھی
سوال: غزل الغزلات میں ، اس کتاب کو کس طرح سمجھنا چاہیے ؟
جواب: مسیحی اور یہودی اس کی بابت چار نظریات رکھتے ہیں
خدا کے ساتھ ہمارے تعلق کی تصویر کے تناظر میں: اس کتاب کو بہت زیادہ تاریخی ایتبار سے دیکھا گیا ہے ، حزقی ایل اور یرمیاہ میں کئی علامات سے خدا کو ہمارا شوہر بتایا گیا ہے ، مگر یہ کتابیں غزل الغزلات کے کئی سالوں بعد لکھی گئیں
رومانوی : علامتی نظریہ اس صورت میں نہایت ہی گہرا ہو جاتا ہے ، جب یہ بیوی کی خوبصورتی بیان کرتا ہے ، جبکہ یہ ایک عملی اظہار ہے ، جبکہ رومانوی محبت ایک جذباتی تعلقاتی ، چھوٹے مسائل اور ان کےحل کی کہانی ہے
سلیمان کی غزل الغزلات ایک اہم کتاب ہے اس کے بغیر ، ایک شخص حیران ہو سکتا ہے کہ آیا ایمانداروں کے لیے رومانوی جذباتی احساسات رکھنا اور شادی شدہ زندگی میں پرجوش لطف اندوز ہونا جائز ہے ، یہ کتاب نہ صرف اس بات کو جائز قرار دیتی ہے بلکہ بتاتی ہے کہ یہ کیسے ہے –
سلیمان بطور پرجوش عاشق: چرواہا اور لڑکی ایک دوسرے سے محبت کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے – اس کتاب کا ازدواجی بے وفائی کے خلاف اجتماع کا جائوہ ایماندار بائبل کی تفسیر ( دی بیلیورز بائبل کمیونٹی ) اور آرتھر کی تبدیلی کی مثال یہ ہے کہ لڑکی درحقیقیت ابی شاگ ہے
محبت کی نظموں کا مجموعہ : کچھ بظاہر اس کو تعمیر نو کے طور پر لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ ایک محبت کی نظموں کا گلدستہ ہے – دی نیو جنیوا سنڈی بائبل صفحہ 1004 اس نظریہ کو پیش کرتی ہے کہ یہ دونوں باتیں غیر مفید اور غیر ضروری ہیں-
ڈرامہ : کچھ لوگ یہ تیسری راۓ رکھتے ہیں کہ یہ ایک قسم کا ڈرامہ ہے تاہم ، دی بائبل نولیج کمینٹری : اولڈ ٹسٹامنٹ صفحہ 1009 ظاہر کرتی ہے کہ کچھ لوگوں کے نزدیک یا ایک رامہ کا فلمایا جانا ہے " اسرائیلی پختہ ڈرامہ کی اوبی تصویر کشی سے مکمل طور بے خبر اور یہ بھی کہ کتاب کو کرداروں اور ڈرامہ کے منظروں میں جانچا نہیں جا سکتا "
خروج کی تصویر از مصر سے جو کہ قدیم ربی تفسیر تھی
سوال: غزل الزلات : اس کتاب کا ابتدائی خاکہ کیا ہے ؟
جواب: اس کے دو خاکے ہیں جن کا انحصار آپ کے خیال میں ایک انسان پر ، سلیمان پر یا پھر چرواہے پر ہے
ایک انسان کا نطریہ : یہ کتاب شادی سے پہلے مکا شفہ ،شادی اور ایک جوڑے کی شادی پر ہے
1 باب کی 2 آیت 3 باب 5 آیت شادی سے پہلے کا مکاشفہ
3 باب 6 سے 11 آیت شادی کےجلوس میں
--------4 باب 1 آیت ، 5 باب کی 1 آیت شادی کی رات 5 باب کی 2 آیت ، 8 باب کی 4 آیت شادی
-----5 باب کی 2 آیت ، 6 باب : 13 آیت شادی میں جاذب نظر عورت ہے "
اور باقی سب کو یونہی لیا جاتا ہے
6 باب 4 سے 13 آیت مسائل پر غلبہ
8 باب 5 سے 14 آیت نتیجہ
شادی میں بے وفائی کے نظریہ کے خلاف احتباج: سلیمان لڑکی کو اس انسان / چرواہے سے دور لےجانے کی کوشش کررہا ہے ، اور وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہے
دی بلئیور بائبل کمنٹری 18 بڑی مشقیں بیان کرتی ہے ،جن کی بنیاد خاص کر مقرر پر ہے یہاں پر اس کا آزاد خلاصہ ہے
1 – 2 باب کی 7 آیت ، شولمیت سلیمان کی عدالت میں 2 باب کی 7 آیت ، اے پروشلم ک بیٹیو!
2 باب کی 8 آیت ، 3 باب کی 5 آیت اپے چرواہے عاشق کی یاد کی بابت
3 باب 5 آیت- اے یروشلم کی بیٹیو!
3 باب کی 6 آیت ؛ 4 باب کی 6 آیت سلیمان کا بڑا جلوس آ پہنچتا ہے
4 باب 7 آیت ، 5 باب کی 1 آیت چرواہا آتا ہے اور شولمیت کو روانہ ہونے کا کہتا ہے –
5 باب 9 آیت ، 8 باب کی 4 آیت ہر کوئی شمولیت کو یقین دلانے کی کوشش کرنا ہے
8 باب کی 4 آیت اے یروشلم کی بیٹیو!
8 باب 5 سے 14 آیت وہ اپنے عاشق چرواہے کے ساتھ جاتی ہے
سوال: غزل الغزلات میں ، ہر ایک آیت کو بولنے والا کون ہے ؟
جواب: دیے گۓ نطریہ کے مطابق بات کرنے والا ایک ہی شخص ہے:
ایک انسان کا نظریہ : 1 باب 9 – 10 آیت ؛ 1باب 15 آیت 2 باب کی 2 آیت ، 2 باب 14 آیت ، 4 باب کی 1 – 15 آیت ، 5 باب کی 1 آیت ، 6 باب 4 سے 9 آیت ، 7 باب 1 سے 9 آیت ، 8 باب کی 13 آیت میں آدمی ہی مقرر ہے
1 باب کی 2 سے 4 آیت کے پہلے حصہ میں، 1 باب کی 4 سے 7 آیت 1 باب 12 سے 14 آیت ، 1 باب کی 15 آیت ، 2 باب کی 1 آیت 2 باب کی 3 آیت سے 14 آیت ، 2 باب کی 16 آیت 3 باب کی 11 آیت ، 4 باب کی 16 آیت ، 5 باب کی 2 سے 8 آیت ، 5 باب کی 10 سے 16 آیت ، 6 باب کی 2 سے 3 آیت ، 7 باب کی 9 آیت ، 8 باب کی 14 آیت ، 8 باب کی 6 سے 7 آیت ، 8 باب کی 10 سے 12 آیت ، 8 باب کی 14 آیت میں مقرر عورت ہے
1 باب کی 17 ، 6 باب کی 11 سے 12 آیت ، 6 باب کی 13 آیت کے حصے میں یا تو عورت یا پھر آدمی ہے
2 باب کی 15 آیت میں ( نیو کنگ جیمس وریزن میں ) یا تر عورت ہے یا آدمی یا پھر عورت کے بھائی ہیں –
1 باب کی 4 آيت کے ب حصہ میں ، 1 باب کی 8 آیت میں ، 1 باب کی 11 آیت میں ، 5 باب کی 9 آیت میں ، 6 باب کی 1 آیت میں ، 6 باب کی 13 آیت کا الف حصہ میں ( بشمول یروشلم کی بیٹیوں کے ) دو دوست بات کرتے ہیں
1 باب کی 8 آیت میں ، 1 باب کی 11 آیت میں ، 6 باب کی 10 آیت میں دوست یا آدمی ہے
8 باب کی 5 آیت کے ب حصہ میں یا تو عورت ہے یا آدمی یا رشتہ دار 5 باب کی 1 آیت کے حصہ میں خدا یا دوست بات کرتے ہیں-
کوئی یہ سوج رکھ سکتا ہے کہ یہ خدا تھا ، کیونکہ جب وہ اپنے بیاہ کی تکمیل کر رہے تھے تو ان کے دوست رہاں موجود نہ تھے )
8 باب کی 8 – 9 آیت میں بات کرتے ہیں
چرواہے جمع سلیمان کا نظریہ : قریب قریب وہی بات کرنے والے ہیں ، سواۓ اس کے کہ یہ سلیمان ہے 4 باب کی 7 آیت سے پہلے چرواہے کا بیان نہیں ہے ، اس کے بعد 6 باب کی 4 سے 10 آیت اور 7 باب کی 1 سے 10 آیت میں صرف سلیمان کرتا ہے
سوال: غزل الغولات میں ، 1 باب کی 1 ، 5 آیت ، 3 باب کی 7 ، 9 ، 11 آیت ؛ 8 باب کی 11 ، 12 آیت میں کیا حقیقت میں یہ کتاب سلیمان نے لکھی تھی ؟
جواب: یہ سکتا ہے کہ اس کا مصنف سلیمان ہو ، مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کا مصنف سلیمان ہو اور کتاب سلیمان کا ذکر کرتی ہے اور یہ موضوع کا نام بھی ہو سکتا ہے نہ کہ مصنف کا
سوال: غزل الغزلات 1 باب کی2 آیت ، اس کی محبت شراب سے بہتر کیوں ہے ؟
جواب: شراب میں متوالے ہونا اس قدر زیادہ خوشی نہیں دیتی جس قدر ایک عورت کا یہ جان لینا کہ اس کا خاوند اس سے بے انتہا محبت رکھتا ہے اگر آپ شوہرہیں تو تمہاری بیوی کس قدر خوشی پاتی ہے محض یہ جان کر کہ آپ کس قدر اس سے محبت رکھتے ہیں؟
سوال:غزل الغزلات 1 باب کی 13 آیت ، کیوں لڑکی نے اپنے عاشق کو بتایا کہ تمام جوان دو شیزہ اس سے محبت کرتی ہیں؟
جواب: وہ اس بات کی تعریف کرتی ہے کہ وہ اسے پسند کرتا ہے نہ کہ دوسری عورتوں کو یہ اپنی بیوی مرد / عورت عاشق سے ہر طرح کا فائہ اٹھانے کی کوشش کرنے کا تصور عقل سے باہر ہے
سوال: غزل الغزلات 1 باب 4 آیت ،جبکہ وہ شادی شدہ نہیں ہیں ، تو لڑکی کیوں بادشاہ کے محل میں راۓ جانے کی بات کر رہی ہے؟
جواب: یہودی روایات میں ، شادی کی تقریب کے فورا بعد نجی طور پر شادی کی باقی تکمیل کی جاتی تھی ، یا ان کی شادی اس موقع پر ہوتی ہے یا پھر وہ اپنے عاشق کو بتاتی ہے کہ وہ شادی کرنا چاہتی ہے
سوال: غزل الغزلات 1 باب کی 5 آیت ، کیا لڑکی کا رنگ کالہ ہے یا پھر یہودی ہے ، یعنی وہ سفید فام تھی ؟
جواب: پہلے اس کا دلچسپ نوٹ اور پھر اس کا جواب دیا جاتا ہے یہوادہ ملکہ شیہ اور سلیمان کے وقت سے ایتھوپیا کے ملک میں ہے ، یہوادہ اس لحاظ سے امتیازی ہے کہ وہ جشن بہاراں یا جشن چراغاں کا کوئی تصور نہیں رکھتے تھے ، جوکہ سلیمان کے وقت سے تقریبا 4 سو سال بعد متعارف کروایا گیا
جواب: لڑکی شاعد کالی رنگ کی تھی ، اور شاعد وہ ایتھوپیا کی تھی ، ایک جانب بہت سارے دیھکتے ہیں کہ امکان زیادہ تر یہی ہے کہ وہ سفید فام تھی ، اور اس کی جلد کا رنگ بھورا تھا کیونکہ وہ ذکر کرتی تھی کہ کالے رنگ کے شخص کی جلد زیادہ کالی دکھائی دیتی اگر وہ زیادہ عرصہ دھوپ میں گزارے
شاعد زیادہ لوگ اس کی نسل کو اس کہانی میں اہم تصور نہیں کرتے – بالکل آج کی طرح جس طرح ہم مسیح میں سب بہن بھائی ہین ، اگر میرے بچے کسی انگریو ع مشرقی ، اسپین کے باشندے سے ، دلچسپی سے کالے سے عربی سے ، ایرانی سے یا کسی اور سے شادی کرتے ہیں تو میں اان سے بالکل برابر خوش ہوں – تاہم میں بہت زیادہ فکر رکھوں گا کہ آیا وہ شخص اندونی طور پر ایک مسیحی جیسا کردار کا حامل ازدواج رکھتا ہے
سوال: غزل الغزلات 1 باب کی 7 آیت میں لڑکی کیوں اپنے محبوب کے ساتھیوں کے گلہ میں چلی گئی تھی ؟
جواب: یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ اس نے ایسا کیا اس نے اپنے محبوب کو بتایا کہ وہ ایسا کر سکتی ہے ،شاید غلطی سے ، اگر وہ اس کو نہ بتاتا کہ اس ک بھیڑیں کہاں چرتی ہیں ، ایک اچھے محبوب کی خاصیت یہ ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہے
سوال: غزل الغزلات کی 1 باب کی 8 آیت میں ، کیوں آدمی اس کو نہیں بتاتا کہ اس کی بھیڑیں کہاں چرتی ہیں؟
جواب: عورت حیران ہوتی ہے کہ کیوں وہ ہر وقت اپنے محبوب کے ساتھ نہیں رہ سکتی ، میں نے ایک بار ایک کالج کے طالب علم سے بات کی جو اس حقیقت کے خوف میں تھا کہ خاص کر اس سے بڑی کلاس کا لڑکا اس میں دلچسپی نہیں رکھتا میں نے اس سے پوچھا کہ اس کی شادی کب ہوئی کتنے فی عرصہ میں اس نے سوچا کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ تھا اس نے کہا 90 فی صد- اس آیت کا بولنے والا یا تو خوشی سے بھرا ہوا محبوب یا یروشلم کی بیٹیاں ، شاید طنزیہ طور پر ہے –
سوال: غزل الغزلات 1 باب 9 آیت میں کیوں اس شخص کا موازنہ فرعون کے رتھوں سے کروایا ؟
جواب: اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ فرعون کے رتھ کو دو اعلی نسل کے گھوڑوں نے کھینچا تھا ، ایک اور نظریہ یہ ہے کہ اس کی محبوبہ اس قدر دلکش تھی جیسے فرعون کے رتھ قابل توجہ تھے
سوال: غزل الئزلات 1 باب کی 12 آیت ، 14 آیت ، 3 باب کی 6 آیت ، کیا مسیحوں کے لیے خوشبو لگانا مناسب ہے ؟
جواب: جی ہاں ، یہ آیات ان کی اجازت دیتی ہیں اور کلام مقدس اس سے منع، نہیں کرتا تاہم ، اگر آپ کا خوبصورت بنانا ، بیرونی طور پر سجاوٹ کرنا ہے ، تو یہ قابل افسوس ہے آپ کی دلکشی یقینا اندورنی خوبصورتی ہونی چاہیے ، جو مرجھاتی نہیں ہے ، 1 پطرس 3 باب 1 سے 5 آیت اور 1 تیمتھیس 2 باب کی 9 – 10 آیت یہ ظاہر کرتی ہے
سوال: غزل الغزلات 1 باب کی 14 آیت ، عین جدی کی خوصوصیت کیا ہے ؟
جواب: عین جدی بحرالکاہل کےساحل پر ایک ویران علاقہ تھا ، سموئیل 24 باب کی 1 آیت میں داؤد بادشاہ ساؤل سے بچنے کے لیے اس علاقہ میں چھپا تھا ، شاید وہاں کوئی اکیلا چلا گیا ہو بے شک دنیا کی ہر وہ جگہ جہاں پر آپ کا محبوب آپ کے ساتھ ہو گا وہ جگہ آپ کے لیے جنت ہے جب کے تمام مسیحی وہ اس کے ساتھ ہیں جسے وہ محبوب رکھتے ہیں ( خدا سے ) دنیا کی کوئی بھی جگہ ہمارے لیے تقریبا تقریبا جنت ہو سکتی ہے
سوال: غزل الغزلات 2 باب کی 2 آیت ، اس کی محبوبہ کس طرح جھاڑیوں میں نوسن ہو سکتی ہے ؟
جواب: اس کی نگاہ میں اس کی محبوب کے مقابلہ میں باقی سب عورتیں بد شکل اور ناقابل خواہش ہیں باقی سب عورتوں کی نسبت وہ ہوسن کی مانند ہے –
سوال: غزل الغزلات 2 باب کی 3 آیت ، درخت سیب کی کیا ایسی بہتر خصوصیت ہے جس کے واسطے اس کےعاشق کو تنبیہ دی گئی ہے ؟
جواب: سیب کا درخت اسلیے قابل قدر ہے کیونکہ یہ وہاں پر کثرت سے نہیں پایا جاتا ، کیونکہ کسی کو یہ حاصل کرنے کے لیے درخت کاٹنا پڑتا تھا بالکل ایسے ہی ، اک عورت یا مردکو دوسروں کے ساتھ وقت گزارنا اور ان کے ساتھ ماقات کرنا چھوڑنا پڑتا ہے جب وہ شادی کرانے پر راضی ہو جاتے ہیں –
سوال: غزل الغزلات 2 باب 4 آیت ، کیا یہا مسیحی کی طرف حوالہ ہو سکتا ہے ؟
جواب: وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں کہ سلیمان کی غزل الغزلات مسیح اور کلیسیاء کی علامت ہے وہ ایسا سوچ سکتے ہیں ، تاہم ، وہ لوگ جو اس پر متفق نہیں ہیں کہ یہ تصویر یا علامت ہے ، وہ اتفاق کر سکتے ہیں کہ کلیسیا یعنی اپنی دلہن کے لیے مسیح کی محبت بالکل اتنی ہی شفیق اور گہری ہے –
سوال: غزل الغزلات 2 باب کی 7 ، 17 آیت اور 3 باب کی 5 آیت میں ، غزل اور ہرن کیا ہے ؟
جواب: غزل مادہ ہرن ہے یعنی ہرن اور ہرن جوان نر ہرن ہے-
سوال: غزل الغزلات 2 باب کی 9 آیت میں " آہو " کیا ہے ؟
جواب: یہ لفظ این اے ایس بی ، این آئی وی ، اور این آر ایس وی میں اس کا مطلب لکڑی کا ایک فریم ہے جو کوئی شخص کھڑکی کو بند کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے بعض اوقات لوگ اس میں شراب رکھتے ہیں یا اس کے گرد پھول اگاتے ہیں
سوال: غزل الغزلات 2 باب کی 14 آیت ( کے جے وی ) کونٹینینس کا کیا مطلب ہے ؟
جواب: اس کامطلب چہرہ یا شکل ہے یہ اس کی خوبصورتی کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے
سوال: غزل الغزلات 2 باب کی 15 آیت ، " لومڑیوں " کی کیا اہمیت ہے ؟
جواب: یہ عبرانی لفظ لومڑیوں یا گیدڑوں دونوں کی طرف اشارہ کر سکتا ہے ، لومڑیاں چھوٹے جانور ہیں ، جن سے لوگوں کو خطرہ کا احساس نہیں ہوتا ہے اور ایک لومڑی تاکستان سے بھاگتا ہوا گورا اور ناقابل لحاظ نقصان کرتا ہے تاہم لومڑڑیوں کا گھرانہ اگر بار بار داخل ہو تو ہ تاکستان کے انگوروں کی جڑوں اور تاکستان کو تباہ کر سکتے ہیں-
اسی طرح چھوٹے گناہ ، ناراضگیاں ، اور غیر شفیقانہ رویے ایک لومڑی کے جوڑوں کی طرح ہو سکتے ہیں ، لیکن زیادہ لمبے عرصہ تک ایسا رہنا شادی کو برباد کر سکتا ہے ، یہ اچھی بات ہے کہ ان چھوٹی باتوں کو پہچانا جاۓ اور ان سے نجات حاصل کی جاۓ-
سوال: غزل الغزلات 2 باب کی 17 آیت ، باتر کے پہاڑ کہاں ہیں ؟
جواب: ہم یہاں پر عبرانی کے بارے میں پر یقین نہیں ہیں اس کا ترجمہ " illsh Rugged" یعنی سخت پہاڑ " یا وہ پہاڑ جو ہمیں الگ کرتے ہیں ہو سکتا ہے "
سوال: غزل الغزلات 3 باب کی 1 سے 4 میں ، عورت کیوں یہاں پر مرد کو تلاش کرتی تھی؟
جواب: وہ اسے دیکھنا بھول گئی تھی ، اور یہاں یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ عورت کا آدمی کو ڈھونڈنے میں کو ئی غلط بات نہیں ہے ایک اور مختلف متن میں ، روت نے بھی بوعتر کو تلاش کیا تھا-
غزل الغولات 3 باب کی 5 آیت اور 8 باب کی 4 آیت میں ، لوگوں کو کیوں محبت میں پہچان پیدا نہیں کرنا چاہیے جب تک وہ ان کو خوشی نہ مل جاۓ؟
جواب: اس کے یہاں پر دو مطلب ہیں ایک شخص کو کسی کے ساتھ مباشرت کونے میں جلدی کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور یہ بھی کہ ایک شخص کو دوسرے کو جلد شادی کرنے پر بھی مجبور نہیں کرنا چاہیے
سوال: غزل الغزلات 3 باب کی 9 آیت ، کیا سلیمان نے رتھ بناۓ تھے ، چونکہ شاہ اسرائیل استثنا 17 باب کی 16 آیت 2 تواریخ 9 باب کی 28 آیت ، 1 سلاطین 10 باب کی 26 سے 29 آیت کے مطابق رتھ نہیں تھے ؟
جواب: اس جواب کے تین اہم نکات ہیں
1 – استثنا میں ظاہر ہوتا ہے کا بادشاہ نے جنگ کے لیے رتھ نہیں بناۓ تھے ، یہاں پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک خوبصورت سجاوٹ والی سواری تھی نہ کہ جنگ کے لیۓ
2 – سلیمان نے جنگی رتھ بناۓ ، اور وہ ایسا کرنے میں غعلط تھا –
3 – اس کتاب کا مرکزی نکتہ سلیمان کی تابعداری نہیں ہے ، لیکن یہ بیان کرتی ہے کہ اس کے پاس شاندار دلکش سواری تھی –
غزل الغزلات 4 باب کی 1 سے 7 آیت اور 7 باب میں ، اگر ایک شخص کی منکوحہ بیوی جسمانی اعتبار سے خوبصورت نہ ہو ، تو کیا وہ پھر بھی اس سے محبت رکھ سکتا ہے ؟
جواب: یقینا جواب میں چار نکات قابل غور ہیں
1 – جسمانی خوبصورتی رکھنا اچھی بات ہے ، جس طرح ایوب 42 باب کی 15 آیت اور غزل الغزلات ظاہر کرتا ہے –
2 – تاہم باطنی حوبصورتی زیادہ اہمیت کی حامل بانسبت بیرونی خوبصورتی کے جو مرجھا جاتی ہے ، جیسا کہ 1 پطرس 3 باب کی 2 سے 4 آیت طاہر کرتی ہے ، کیا آپ اس کے ساتھ شادی کر رہے ہیں جو آپ کی عمر کے ساتھ ساتھ بوڑھی ہو ؟
3 – اس بات پر غور کرنا دلچسپ بات ہے کہ کیوں بہت سارے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ عورتوں اور مردوں کی خوبصورتی کا ایک معیار ہے ، شاید ہولی وڈ اور ڈیونی نے اس صورت میں ہم پر شرط عائد کردی ہے ، مثال کے طور پر یورپ میں احیاء علوم کے زمانے میں ، عورت کی حوبصورتی کا معیار جدید دور میں دیکھتے ہوۓ بھاری وزن والی عورتیں تھیں ، کوئی پچھلے دور کی ثقافت میں واپس جاکر دیکھے تو وہ موجودہ دور کی خوبصورتی کے معیار پر حیران ہو گا جس سے آپ شادی کرتے ہیں اس سے محبت رکھنا ثقافتی معیار کی حوبصورتی سے زیادہ اہم ہے ، وقت کے ساتھ ساتھ آپ دیکھ سکتے ہین بے شک آپ نے دنیا کی سب سے زیادہ دلکش لڑکی سے شادی کی ہے جو اپ کو پسند ہے
4 – آدمیوں کے لیے ، چند مشرقی روایات پسند ثقافتوں میں ، جہاں پر خوراک جو ہے وہ زیادہ نہیں پائی جاتی ، وہاں پر آئیڈیل نظر مرد بڑے پینٹ والے ہیں ، تاہم مرد ، اس کو زیادہ کھانے کا بہانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کرتے کہ یہ کہے " میں اور میرا پینٹ پہلے ہی ٹھیک ہے ہم محض غلط وقت اور غلط جگہ پر پیدا ہوۓ ہیں
سوال: غزل الغزلات 4 باب کی 2 آیت اور 6 باب کی 6 آیت ، بھیڑ جیسے دانت ہونے جو کہ دو بچوں کو جنم دیتی ہے کی کیا اہمیت ہے ؟
جواب: اس کے دانت چرواہے کو بھیڑ کی سفید اون بار دلاتے ہیں ، یہ ایک شاعرانہ انداز ہے کہ سب دانت مکمل ہیں ، اور ان میں سے ایک بھی کم نہیں ہے –
سوال: غزل الغزلات 4 باب کی 3 آیت میں ، چونکہ اس کے ہونٹ قرمزی دورے ہین ، کیا یہ ماضی میں سجاوٹ بناوٹ کی کسی چیز سے ملتی ہے ؟
جواب: جی ہاں ، یہ ملتی ہے
خوشبو کے لیے : ہمیں معلوم ہے کہ چھوٹے ڈبے جو کہ مصر کے فرعون کے ساتھ 500 سے 3500 قبل از مسیح میں دفناۓ جاتے تھے ، تقریبا 1500 قبل ازمسیح میں مرد اور عورتین اپنے سروں پر میٹھی شاندار خوشبو کے ڈھیر رکتھے تھے
آئی لائنر کے لیۓ : عورتیں 1500 قبل از مسیح سے اپنے آلنکھوں میں سرمے کا استعمال کیا کرتیں تھیں جو کہ موسی کے وقت سے پہلے ہے ( غالبا کحل سیلفائیڈ )
سرخ رنگوں کے لیۓ : مہندی ایک سرخ رنگ ہے جو کہ پاؤں کے تلوں ، نہ ہاتھ کی ، ہتھیلیوں اور ناخنوں کو سرخ کرنے کے لیۓ استعمال کی جاتی تھی ( پاؤں کے نیچے حصہ نہیں بھل سکتے ) بعد میں رومیوں نے ( ہونٹوں اور رخساروں کو سرخ کرنے پر نکتہ مرکوز " کیا قرمزی رنگ قرمز کپڑوں سے حاصل کیا گیا تھا
سوال: غزل الغزلات 4 باب 9 سے 10 ، 12 آیت اور غزل الغزلات 5 باب کی 2 آیت وہ کیوں اپنی محبوبہ کو اپنی بہن کہہ رہا ہے ؟
جواب: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی محبوبہ سے کس قدر زیادہ محبت رکھتا ہے اور وہ کس طرح کی اس سے محبت رکھتا ہے بحییثیت بھائی کہ اگر وہ اس سے مباشرت نہیں رکھ سکتا تھا ، تو بھی وہ اس کے ہر وقت قریب رہنے سے خوش ہو گا ، اور یہ ایسا ہی ہونا چاہیے جبکہ جسمانی تعلق ایک دوسرے کی محبت کا عکس ہونا چاہیے ، ایک دوسرے سے محبت رکھنا جسمانی تعلق سے زیادا اہم ہے ، اگر کو ئی حادثہ پیش آ جاۓ ، اور آپ کی شریک حیات اپنے عضو کے استحال کو کھو دیے ، تو کیا پھر بھی آپ اپنی یا اپنے شریک حیات سے محبت رکھیں گے –
سوال: غزل الغزلات 4 باب کی 12 ؛ 5 باب کی 1 آیت میں وہ کس کی بابت بات کر رہے ہیں ؟
جواب: 1 باب کی 2 آیت سے 3 باب کی 5 آیت شادی سے پہلے مکاشفہ کی آیات ہیں ؛ 3 باب کی 6 آیت سے 5 باب کی 1 آیت شادی کی آیات ہیں ، 4 باب کی 1 سے 5 باب کی 1 آیت شادی کی آیات ہیں-
سوال: غزل الغزلات 5 باب کی 1 سے 8 آیت میں ، یہاں پر اہم نکتہ کیا ہے ؟
جواب: یہاں پر ایک چھوٹی لومڑی یا رشتہ میں ایک مسئلہ تھا خاوند بیوی کو دروازہ کھولنے کیو کہہ رہا تھا ، کیا شوہر کسی ایسے کام کو کروانے کی خواہش کر رہا تھا جس کو وہ خود کر سکتا تھا ، کیا بیوی شوہر کے گھر آمد کی بابت بے خبر تھی ، یا شوہر نے دروازہ پر اپنی بیوی کے شاندار استقبال کو یاد کیا تھا ، بظاہر تو ہاں پر مسئلہ نطر آتا ہے پھر خاوند چلا جاتا ہے ،۔ لیکن وہ دروازہ کی چٹخنی پر خوشبو چھوڑ اتا ہے ، علامتی طور پر ظاہر کرتا ہے کہ وہ ابھی بھی اس کی خواہش کرتا ہے – اور افسوس کرتا ہے کہ وہ اس کے لیۓ جاگ نہ پائی –
سوال: غزل الغزلات 5 باب کی 2 سے 6 آیت اس پیرے کا کیا مطلب ہے ؟
جواب: اس کے دو نظریے ہیں –
1 – اس نظریہ میں سلیمان دو لوگوں کی محبت کے درمیان ایک کانٹے کی طرح تھا ، یہ وہ سارا خواب تھا جو اس لڑکی نے دیکھا تھا –
2 – " دو محبت کرنے " والوں کا نظریہ ، شادی میں کچھ لا تعلقی طے تھی – وہ اس کو دروازہ کھولنے کا کہتا ہے ، اور 3 آیت میں وہ ابتدائی طور پر انکار کرتی ہے اور بہانہ بناتی ہے کہ وہ اس سے تعلق ہے آخرکیار وہ اٹھ کھڑی ہوتی ہے لیکن اس وقت وہ جا چکا ہوتا ہے ، وہ دروازہ پر تھوڑی خوشبو لگا دیتا ہے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ اس کی لاتعلقی کی وجہ سے ان میں ہونے والی جدائی سے اس کو افسوس ہے – اور وہ صلح کے لیے اور اس کو معاف کرنے کے لیے بے چین ہے – بعض اوقات جب ہم کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ہے تو ہمیں چلے جانا چاہیے ، یعنی دروازہ پر خوشبو لگاتے ہوۓ اور مفاہمت کرنے کے لیے پر جوش رہنا چاہیے –
سوال: غول الغزلات 5 باب کی 7 آیت ، پہرے دار نے اس کو کیوں پیٹا؟
جواب: یہ آیت یوں نہیں کہتی ہے – شاید یہ بعض پر مبنی یا شاید مرض پر ، مگر زیادہ تر امکان ہی تھا کہ پہرے دار نے غلطی سے یہ سوچا کہ وہ ایک فاحشہ ہے اور اس کو مارا تاکہ وہ گلیوں سے چلی جاۓ اور اپنے گھر لوٹ جاۓ –
سوال: کیا غزل الغزلات 5 باب کی 16 آیت محمد کا حوالہ دیتی ہے کیونکہ یہ " سراپا عشق انگیز " کا ذکر کرتی ہے اور کیا محمد اور مخادیم ( کسی نہ کسی طرح سے ) محمد کے حمایتی ہیں ؟
جواب: میں نے یہ بات پہلے کبھی نہیں سنی کیا مسلمان کی غزل الغزلات محبت کی کہانی ہے مسلم خواتین ( مردوں کا ذکر نہیں کیا جاتا ) محمد کی بابت کیا ردعمل رکھتی ہیں ؟میرا نہیں خیال کہ مسلمان ایسا سوچیں گے !
سوال: غزل الغولات 6 باب کی 4 آیت میں ، کیا ترمنہ کا حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ نطم سلیمان کے دور کے بعد لکھی گئی تھی ؟
جواب: سلیمان کی غزل الغزلات نے کبھی نہیں کہا کلہ یہ سلیمان لکھی یا اس کے دور میں لکھی گئی تھی – تاہم یہ آیت بعد کے دور کو بھی ظاہر نہیں کرتی ہے – یشوع 12 باب کی 24 آیت میں ترمنہ ایک بادشاہ تھا اور بیربام 1 ( 900 – 880 قبل از مسیح میں ) 1 سلاطین 14 باب کی 17 آیت میں اس نے ترمنہ میں قیام کیا ،۔ ماہر آثار قدیمہ نے دریافت کیا کہ یشوع کے وقت سے ترمنہ نے قبضہ کیا تھا –
سلیمان کی غزل الغزلات 6 باب کی 4 آیت ترمنہ اور یروشلم دونوں کا ذکر کرتی ہے ، اور 6 باب کی 5 آیت جلعاد کا ذکر کرتی ہے – ایسمو کہتا ہے کہ یہ بعد کے دور کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ ترمنہ یروشلم کے متشابہ نہ تھا وہ طاقتور نہ تھا ، لیکن خوبصورتی کے لحاظ سے وہ یروشلم کے اتنا متشابہ تھا جتنا جلعاد تھا –
سوال:غزل الغزلات 6 باب کی 4 آیت ، ہم ترمنہ کے شہر کی بابت اور کیا آگاہی رکھتے ہیں ؟
جواب: ترمنہ کا مطلب "خوشی " ہے اور اس کا ذکر یشوع 12 آیت میں ملتا ہے ہم شہر کا کنعانی نام نہیں جانتے ہیں ، لیکن بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلیوں نے اس کا دوبارہ نام زی لو فہد کی ایک بیٹی کے بعد ترمنہ رکھا تھا –
جبکہ ماہر آٹار قدیمہ ترمنہ کی اصل جگہ کی بابت یقینی نہیں ہیں ، وہ واضح طور پر پریقین ہے کہ یہ تل الفرج کا علاقہ ہے ، جوکہ مجدیو سے تقریبا 600 میٹر چوڑا اور 300 میٹر بڑا ہے ابتدائی آبادکاری کے اقدامات پتھر کے دور سے تھے ایک نئی پتھر کی دیوانر کانسی کے دور تقریبا 1700 قبل او مسیح میں تعمیر کروائی گئی تھی ، اگلی طبقاتی تربیت ظاہر کرتی ہے کہ ایک نیا شہر ٹھیک اسی وقت تعمیر کروایا گیا جب پہلے بناۓ گے شہر کو مسمار کر دیا گیا تھا اس یونانی فن کے دور کے پہلے حصے میں یہ علاقہ 9 صدی قبل از مسیح تک وہاں ہی رہ گیا تھا – بظاہر اس وقت تک جب اومری نے اسرائیل کا دارلحکومت ترمنہ سے سامریہ بنایا تھا اس کو آگ سے جلایا گیا تھا جو کہ ظاہر کر سکتا ہے کہ زمری خود بھی اپنے محل کو جلانے کے ساتھ جل کر موت کے گلے لگا تھا ، ترمنہ دوبارہ تعمیر کروایا گیا ، لیکن پھر تباہ ہو گیا تھا ، بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ 723 قبل از مسیح میں اسرئیلیوں کے ہاتھوں تباہ برباد ہوا تھا –
سوال: غزل الغزلات 6 باب کی 4 ، 10 آیت میں کس طرح ایک آدمی علمدار لشکر کی مانند خوفناک ہوتا ہے ؟
جواب: وہ اس قدر خوف زدہ اور ڈری ہوئی تھی جیسا کہ اس نے ایک فوج کو لڑائی کے لیۓ دیکھا ہو –
سوال: غزل الغزلات 6 باب کی 7 آیت میں ، اس کی کنپٹیاں کو انار کے ساتھ کیوں تشبیہ دی گئی تھی ؟
جواب: انار میں بہت زیادہ سرخ جوس ہوتا ہے کو لوگ اس کو بناؤ سنگھار کے لیے استعمال کرتے تھے بالفاط دیگر اس کا چہرہ سرخ تھا-
سوال: غزل الغزلات 6 باب کی 8 آیت میں ، کیا سلیمان کی 140 بیویاں اور کنیزیں تھیں ، یا 1 سلاطین 13 باب کی 3 آیت کہتی ہے کہ 1000 تھیں ؟
جواب: آیت ہرگو اییسا نہیں کہتی ہے کہ یہ سب اس کی بیویاں تھیں حتی کہ اس کی بیوی تھیں ، حقیقت میں سلیمان کی ایک ہی بیوی تھی ، اور اس کی حرمیں بتدریج برھتی رہیں 1 سلاطین 11 باب کی 3 آیت سلیمان کی بیویاں کی درست تعداد بتاتی ہے کہ اس کے دور کے اختتام پر وہ کشی تھیں
سوال: غزل الغولات 6 باب کی 12 آیت میں ، یہ کونسے رتھ ہیں ؟
جواب: اس کا ترجمہ یوں ہو سکتا ہے " امیندیب کے رتھ " یا میرے لوگوں کے شاہی رتھ " یا میرے عظیم لوکوں کے کے رتھ یا " میرے شہوادوہ کے علاوہ رتھ "
سوال: غزل الغزلات 6 باب کی 13 آیت ، کیوں اس کو شوملیت پکارا جاتا تھا ؟
جواب: اس کے دو نطریات ہیں:
شولیم یا شونیم کا شہر : شاید یہ نقل کرنے والی کی شلطی اس شخص کے لیے جو شونم کے شہر سے تھا جو کہ جیزریل سے شمال کی طرف 3 میل ( 5 کلو میٹر ) کی مسافت پر تھا – حروف آئی اور این بعض اوقات سبامی زبانوں میں آپس میں مل جاتے تھے ، 1 سلاطین 1 باب کی 3 آیت ، 2 باب کی 17 ، 21 آیت کے مطابق ابی شاگ شونمیت تھی
سلیمان کی لڑکی : شونمیت سلیمان کی مونث شکل ہے اس کو سلیمانی پکارا جاتا تھا مطلب سلیمان کی لڑکی-
چخونکہ ہمیں شونیم کے شہر کا پتہ ہے پہلا نظریہ یہت زیادہ قابل غور ہے جبکہ ابی شاگ شونمیت تھی لیکن وہ خاص طور پر سلمیان کی لڑکی نہ تھی ورنہ ہر ایک شونیم لڑکی سلیمان کی لڑکی ہو گی –
سوال: غزل الغزلات 7 باب کی 13 آیت ، مردم گیاہ کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: مردم گیاہ میں ایک خوشگوار خوشبو تھی ، اور اس سے پہلے مردم گیاہ کو بچے پیدا کرنے کی قابلیت کو زیادہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانا سمجھا جاتا تھا ، جیسا کہ پیداغشی 30 باب کی 14 – 15 آیت میں راخل اور لیاہ نے سوچا تھا –
سوال: غزل الغولات 8 باب کی 1 سے 2 آیت میں ، کیوں لڑکی دنیا میں اپنے محبوب کو اپنا بھائی بنانے کی خواہش کرے گی ؟
جواب: شاید وہی وجہ ہے جس کو آدمی نے بیان کیا کہ وہ میری بہن کی مانند ہو ، اس کے جواب کے لیے سلیمان کی غزل الغزلات 4 باب کی 10 آیت کو دیکھیں-
سوال: غزل الغزلات 8 باب کی 6 سے 8 آیت میں ، کیا محبت موت کی طرح زبردست طاقتور ہوتی ہے ؟
جواب: جی ہاں بے شک خدا کی محبت ہمارے لیے موت کی نسبت زیادہ طاقتور ہے- مگر اس آیت میں نکتہ بیان یہ نہیں ہے دوسروں سے محبت کرنا موت کو شک دینا ہے اور ایماندار ان سب کو جو خداوند کے پاس پہلے جا چکے ہیں دیکھیں گے ، ایماندار اور چند غیر ایمانداروں کے لیۓ ، دوسرے شحص کے لیۓ محبت ذاتی انا کے بچاؤ سے زیادہ طاقتور ہو سکتی ہے –
اگر اپ کوئی ایسی ملازمت اختیار کریں جہاں پر آپ کو آپ کی موجودہ تنخواہ والی ملازمت سے دو گناہ زیادہ تنخواہ دی جاۓ ، لیکن آپ کو اپنے خاندان سے ہفتے میں 5 دن جدا رہنا پڑے ، اور جب کہ آپ کی موجودہ تنخواہ سے آپ کے گھر والے بھوکے نہیں مر رہے تو کیا پھر آپ وہ ملازمت اختیار کر یں گے ؟ میرے خیال میں نہیں ، آپ اپنے خاندان ، اپنی شریک حیات اور اپنی خاطر اور اپنے گواہی کے لیۓ نہیں کریں گے-
سوال: غزل الغزلات 8 باب کی 8 سے 10 آیت ، لڑکی کے بھائیوں کے ان الفاظ کی کیا اہمیت ہے ؟
جواب: وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس کی نگہبانی کرتے رہے ہیں – شاعرانہ زبان کا استعمال کرتے ہوۓ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر وہ دروازہ کی مانند ہے اور اس کو بند کرنے کی ضرورت ہے تو وہ او کو " بند " کریں گے اگر اس میں غلبہ نفس دیوار جیسا ہے تو پھر وہ اس کی عزت کریں گے شہر کی دیواروں پر چاندی کا ہونا شہر کی حفاظت نہیں کرتا ، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ وہ شاندار چمک رکھتا ہے – یہ دلچسپ بات ہے کہ کچھ جدید ثقافتوں میں یہ سوچا جاتا ہے کہ کھلی بات چیت میں جیسا کہ حرام یا حلام میں فرق ہونا چاہیے بائبل میں گھریلو معاملات میں " پاکیزگی کی بابت کھل کر بات چیت ہوتی ہے –
سوال: غزل الغزلامت 8 باب کی 8 سے 10 آیت کیوں ایک بچہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری رکھتا ہے ؟
جواب: یقینا بہن بھائیوں کو مشترکہ طور پر ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے ، جیسا کہ پیدائش 3 باب کی 9 – 10 آیت میں قائین ایسا کرنے میں ناکام رہا ، 1 تیمتھیس 5 باب کی 8 آیت کے مطابق ہمیں اپنے خاندان کے ہر فرد کی جسمانی ضروریات کی بھی فکر کرنی ہیں ، اس سے بڑھ کر یہ ، جوان بچے پر چھوٹے بچوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جیسا کہ ان کے والدین ان کو اختیار دیتے ہیں- کس طرح والدین اختیار دیتے ہیں؟
ہمارے گھر میں ، جب عمر کا فرق تین سال سے کم ہو ، تو برا چھوٹے پر کوئی اختیار نہیں رکھتا ہے سواۓ اس بات کے کہ اگر والدین اس کے قریب نہ ہوں تو –
سوال: غزل الغزلات 8 باب کی 11 سے 12 آیت میں ، لڑکی یہاں پر کیا کہہ رہی ہے ؟
جواب: وہ یہاں کہہ رہی ہے کہ وہ راستباز ہے اور قابل عزت ہے جس نے شادی تک اپنے بدن او بچاۓ رکھا ہے-
سوال: غزل الغزلات ، اس کے چند ابتدائی مسودہ جات کونسے ہیں کیا وہ آج بھی موجود ہیں؟
جواب: ڈیڈ سی سکرول : ( قبل از مسیح ) 4 الگ نقول ان کو 4 کیو 106 ، 4 کیو 107 ، 4 کیو 107 ، 4 کیو 108 اور 6 کیو 6 کہا جاتا ہے ، طومار 4کیو420 کے بارے میں زیادہ تر امکان یہی ہے کہ یہ غول الغزلات کی ایک تشریح کاپی ہے –
4کیو نغمہ سلیمانی ( ابتدائی ہیرودیس سے ) کے 3 باب کی 7 سے 11 آیت ؛ 4 باب کی 1 سے 7 آیت ؛ 6 باب کی 11 آیت ؛ 12 آیت ؛ 7 باب کی 1 سے 7 آیت حصے ہیں – غول الغزلات 4 باب کی 8 ایت 6 باب کی 11 آیت جھوری نہین کئی بلکہ موجود نہیں ہیں-
4 کیو نغمہ سلیمانی ( 50 سے 1 قبل از مسیح ) کے 2 باب کی 9 سے 17 آیت ؛ 3 باب کی 1 سے 2 آیت ، 5 آیت اور 9 سے 10 آیت ؛ 4 باب کی 1 سے 3 آیت 8 سے 11 آیت ، 14 سے 16 آیت ؛ 5 باب کی 1 آیت ہے – غول الغولات 3 باب کی 5 سے 9 آیت چھوڑی نہیں گئی بلکہ موجود نہیں ہے –
4 کیو نغمہ سلیمانی ( 50 سے 1 قبل از مسیح ) 3 باب کی 7 سے 8 آیت
6 کیو 6 غزل الغزلات 1 باب کی 1 سے 7 آیت ( 50 بعد از مسیح )
مسیحی بائبل کے مسودہ جات ، تقریبا 350 بعد از مسیح سے ہیں جن میں پرانا عہدنامہ ، بشمول غول الغزلات جن کو نغمہ سلیمانی بھی کہا جاتا ہے ، پاۓ جاتے ہیں-
ویٹی کنس : ( 325 سے 35 بعد از مسیح ) اور سینٹی کیٹس ( 340 سے 350 بعد از مسیح ) دونوں میں سلیمان کی تمام غزل الغزلات محفوظ ہیں-
الیگزنینڈنیس ( 450 بعد از مسیح ) میں تمام غزل الغزلات محفوظ ہیں –
سوال: وہ کونسے چند ابتدائی مصنفین ہیں جنہوں نے غول الغزلات کا حوالہ دیا ؟
جواب: پری نائسین مصنفین جنہوں نے حوالہ دیا یا غزل الغزلات کی آیات کا ذکر کہا تھا یہ ہیں :
ایرنیس آف لائنس ( 182 – 188 بعد از مسیح ) ملیٹو /فی لیٹو آف سردیس ( 170 سے 177 / 180 بعد از مسیح )
ٹری ٹولین ماری سن کے خلاف 5 کتابیں ( 207 / 208 بعد از مسیح )
ہائپولی ٹس ( 222 – 235 / 236 بعد از مسیح )
اورجن ( 225 – 254 بعد از مسیح )
سائپرین بشپ آف کارتھج ( 248 – 258 بعد از مسیح )
فرملین آف قیصریہ ٹو کیپرین ( 256 بعد از مسیح )
میتھوڈس آف اولمپس اینڈ پیٹرا ( 260 – 312 قبل از مسیح )
سوال: غزل الغزلات میں ، چند یونانی اور عبرانی ترجموں کے متن میں تضاد کیا ہیں ؟
جواب: پورے طور پر ، غزل الغزلات کے ترجمہ کا متن اس قدر اعلی ترجمہ نہیں جس طرح کا First thte massoretic text تورات کا ہے ، یہاں پر ترجمہ میں چند تضاد ہیں ،
کا خاص کر 2 باب جو ینانی متن مع اسفار صحرفہ کے بعد آیا تھا – غزل الزلات 2 باب کی 1 آیت " شارون کی نرگس بمقابلہ " ہموار جگہ کے پھول " ( شارون ایک بڑی ہموار جگہ کا نام تھا )
غزل الغزلات 2 باب کی 3 آیت " جنگل کے درخت "
غزل الغزلات 2 باب کی 3 آیت " چکھنا " بمقابلہ " گلا "
غزل الغزلات 2 باب کی 4 آیت " وہ مجھے لایا " بمقابلہ " مجھے لاتا ہے "
غزل الغزلات 2 باب کی 5 آیت " مجھے کشمش کے کیک سے سیر کرتا ہے " بقمابلہ " مجھے خوشبو سے مضبوط کرتا ہے " غزل الغزلات 2 باب کی 5 آیت " کی بیمار " بمقابلہ " عشق کی زخمی "
غزل الغولات 2 باب کی 7 آیت " غزال اور ہرنیوں کا میدان " بمقابلہ قوت اور نیکیوں کا میدان "
غزل الغزلات 2 باب کی 8 ، 9 ، 10 ، 16 آیت وغیرہ " محبوب " بمقابلہ " خونی رشتہ دار "
غزل الغزلات 2 باب کی 9 آیت " غزل کی مانند ، یا جوان ہرن یا بارہ سنگھا کی مانند " بمقابلہ " ہرنی کی طرح یا جوان ہرنی کی مانند جو بلسیانی پہاڑیوں پر ہے "
غزل الغزلات 2 باب 9 آیت " لکڑی کا فریم " بمقابلہ " حال "
غزل اغزلات 2 باب کی 10 آیت " میری محبت ، میری پیاری ، چلی آ " بمقابلہ " میرے ساتھی ، میرے پیاری ، میری کبوتری "
غزل الغزلات 2 باب 12 آیت : " گیت گانے کا وقت " بمقابلہ " چھانٹنا کا وقت "
غول الغزلات 2 باب 12 آیت " سنائی دیتی ہے " بمقابلہ سنائی دیتی رہی ہے "
غزل الغولات 2 باب 13 آیت کھلنے کی مہک دینا "بمقابلہ " گرم انگور کو اگانا ، " انہوں نے مہک کو پایا "
غزل الغزلات 2 باب 13 آیت " اے میری محبوبہ آ ،میری پیاری ، تو آ " بمقابلہ " اے میری دوست آ ، میری عزیزہ ، میری کبوتری ہاں تو آ "
غزل الغزلات 2 باب 14 آیت " شکل " بمقابلہ " چہرہ "
غزل الغزلات 2 باب 14 آیت " شکل " بمقابلہ " چہرہ"
غزل الغزلات 2 باب 15 آیت " لومڑیاں " جھوٹی لومڑیاں " بمقابلہ " چھوٹی لومڑیاں "
غزل الغزلات " 2 باب 15 آیت کھلنا " بمقابلہ نرم انگور "
غزل الغزلات 2 باب 17 آیت " جب تک ان ڈھلتا ہے " بمقابلہ " جب دن نکلتا ہے "
ئول الغزلات 2 باب 17 آیت " غزال ، یا جوان ہرن ، بارہ سنگھا باتر کے پہاڑوں پر بمقابلہ " ہرنی ، جوان ہرنی گہرے تنگ پہاڑوں پر "